وعدے فرماتا ہے۔ ہم کسی کو کچھ دیں گے تو نہ جانے ہمارے ذہن میں کىا کىا ہو گا؟ لیکن اللہ پاک کى شان دىکھو کہ اپنی شانِ کرىمى سے خوب نوازتا ہے۔
تیل لگے کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھنا کیسا؟
سُوال :مىں Oil )یعنی تىل( کا کام کرتا ہوں۔ اس کام مىں کپڑے مىلے اور گندے ہو جاتے ہىں،کىا میں اس حالت میں مسجد جا سکتا ہوں؟اور میری نماز ہو جائے گى ؟
جواب: Oil )یعنی تىل( ناپاک نہىں ہوتا البتہ اگر اتنا زیادہ تىل لگا ہوا ہے کہ مسجد کى درىاں چکنى ہوں گى، صف مىں ساتھ والے آدمی کے کپڑے گندے ہو جائیں گے، ىا لوگوں کو گھن آئے گى جیسا کہ تىل زیادہ عرصہ کپڑوں پر لگے رہنے کے سبب بَدبو دار ہو جاتا ہے تو ایسی بَدبو کی صورت مىں مسجد مىں داخل ہونے کى اِجازت نہىں ہے(1) لہٰذا نماز کے لىے الگ کپڑے رکھنے ہوں گے۔
تىل کى چیکٹ(یعنی وہ مٹی جو تیل کے باعث سیاہ اور چکنی ہو جائے اس)سے مىلے کچىلے کپڑے ناپاک نہىں ہىں ۔ اگر ایسے کپڑوں میں اپنے گھر مىں نماز پڑھى تو اس مىں گناہ نہىں ہے البتہ مکروہِ تنزىہى(یعنی ناپسندىدہ) ضَرور ہے۔ (2)اگر ان کپڑوں کے ساتھ مسجد مىں نماز پڑھى تو نماز وہاں بھی ہو جائے گى لىکن دوسروں کو تکلىف ہونے کی صورت میں گناہ ملے گا۔
________________________________
1 - شرح الوقایة ، ۱ / ۱۹۸ باب المدینه کراچی
2 - مراٰةا لمناجيح ، ۱ / ۴۳۸ ماخوذاً