کئى کئى شانِ نُزول ہوتے ہىں لہٰذا آیات کا شانِ نُزول معلوم ہونا چاہیے ۔ یوں یہ ایک پىچىدہ عِلم ہے، اللہ پاک کی رَحمت سے جو یہ عِلم جانتا ہو بے شک وہ قرآنِ کریم کی تفسیر کرے اور جو نہیں جانتا تو وہ فَنِ تفسیر سىکھے کہ یہ اَجر و ثواب کا کام ہے لیکن اگر کوئی فَنِ تفسىر نہىں سىکھتا تو وہ گناہ گار بھى نہىں۔
سَیِّد اپنی بہن کو زکوٰۃ دے سکتا ہے؟
سُوال: کىا سَىِّد اپنى غرىب بہن کو زکوٰة دے سکتا ہے؟
جواب: زکوٰة دینے والاچاہے سَىِّد ہو یاغیرِ سَیِّد دونوں سَىِّد کو زکاة نہىں دے سکتے اور نہ ہی سَىِّد زکوٰۃ لے سکتا ہے۔ (1)اگر سَىِّد خود صاحبِ نصاب ہوں تو زکوٰۃ کی باقی شَرائط بھی پائے جانے کی صورت میں سَىِّد صاحب کو زکوٰة نکالنی ہو گى۔
”صَدَقہ اللہ پاک کو قرض دینے کى طرح ہے“ایسا کہنا کیسا؟
سُوال:صَدَقہ دىنا اللہ پاک کو قرض دىنے کى طرح ہے ،اىسا کہنا کىسا ہے ؟
جواب:(امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا:)قرآن پاک میں ہے:( وَ اَقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًاؕ- )(پ۲۹،المزمل:۲۰)ترجمۂ کنز الایمان: ”اللہ کو اچھا قرض دو ۔ “اس کى تفسیر اللہ پاک کى راہ مىں خرچ کرنا ہے ،ىہ قرض کے اندر آتا ہے۔ (امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے فرمایا:)ىہ اللہ پاک کا کرم ہے کہ خود ہى دىتا ہے اور خود ہى اس کی راہ مىں خرچ کرنے پر ثواب اور جنَّت کے
________________________________
1 - بہارِشریعت، ۱ / ۹۳۱ ، حصہ : ۵