کیونکہ ہمىں پتا ہى نہىں کہ ہم کىا پڑھ رہے ہىں؟
جواب:قرآنِ پاک کو بغىر سمجھے ىعنى ترجمہ کے بغیر پڑھنے سے بالکل ثواب ملے گا۔ لہٰذا غَلَط پروپگنڈے کر کے مسلمانوں کو قرآنِ کرىم سے دُور نہ کىا جائے کہ جب سمجھ نہیں آتی تو پڑھنے کا کیا فائدہ؟ نماز مىں بھی سورۂ فاتحہ اور دِیگر جو سورتیں پڑھی جاتی ہیں ان کی بھی کچھ سمجھ نہیں آتی۔ ثنا پڑھتے ہىں تو اس کے بھی معنىٰ معلوم نہیں ہوتے، بِسْمِ اللہ کا تَرجمہ پوچھا جائے تو لوگ بغلىں جھانکنا شروع کر دىں گے تو اب کىا نماز پڑھنا اور بِسْمِ اللہ پڑھنا سب چھوڑ دىں گے؟ یقیناً ایسی بات نہیں ہے لہٰذا قرآنِ کریم سمجھ نہ بھی آئے جب بھی پڑھنا چاہىے۔
ہر عالم تفسیر کی قابلیت نہیں رکھتا
قرآنِ پاک کو جاننے کے لیے فقط عربی جاننا کافی نہیں اور ہر عالِم بھى قرآنِ پاک نہىں سمجھ سکتا۔ اس لیے کہ اىک لفظ کے کئى کئى معانى ہوتے ہىں ۔ اب جس کی تَفاسىر پر پورى نظر نہىں ہو گی تو وہ قرآنِ کرىم سمجھ ہى نہىں سکتا اور نہ ایسے شخص کو از خود قرآنِ کریم میں غور کرنے کى اِجازت ہے۔ جو عِلمِ تفسىر کا ماہر ہو گا وہى قرآنِ کرىم کو سمجھ کر پڑھ سکتا ہے۔ آج کل جگہ جگہ جو مفسر نکل پڑے ہىں تو ان مىں اکثر تفسىر کے اہل نہىں ہوتے۔ تفسىر بیان کرنے کی بہت کڑی شرائط ہىں ۔ تفسیر اىک الگ فن ہے اس کے لیے عالِم ہونے کے ساتھ ساتھ اس فن میں مہارت بھی ضَروری ہے۔ بعض اوقات اىک اىک آىت کے