ملى ہے۔ اللہ پاک نے اِس کلام کوقبولىت بخشی اور یہ کافى پڑھا گىا ہے اور اب بھى اللہ پاک کى رَحمت سے موقع بہ موقع پڑھا جاتا ہے ۔
امیرِاہلسنَّت کی بغداد شریف کی حاضری
سُوال: کىا آپ کبھى بغدادِ مُعَلّٰى تشرىف لے گئے ہىں؟
جواب:(سُوال کرنے والے نے بغدادِ مُعَلّٰی تشریف لے جانے کا پوچھا حالانکہ بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کی بارگاہوں میں تشریف نہیں لے جایا جاتا بلکہ حاضری دی جاتی ہے، اس لیے امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اَدَباً فرمایا:)میں کبھى بغدادِ مُعَلّٰى تشرىف نہىں لے گىا بلکہ خواب مىں بھى تشرىف نہىں لے گىا۔ ہاں جب مُرشِدِ پاک نے کَرم فرمایا ہے تو ان کی بارگاہ میں حاضِرى دى ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ دو مرتبہ بغداد شرىف،کَربلائے مُعَلّٰی اور نجفِ اَشرف حاضرى کى سعادت ملى ہے۔ عراق شرىف تو مَاشَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ زیارت گاہ ہے۔
تَفاسیر کو بے وُضو چُھونا کیسا؟
سُوال:کیاتفسىرِجَلالىن کو بے وُضو اور بے غسل چُھو سکتے ہىں؟
جواب:(امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا:)ىہ مختصر تفسیر ہے اسے بے وُضو چھونے کى بالکل اِجازت نہىں ہے کیونکہ اسے بے وُضو چھونے میں قرآنى آىات پر ہاتھ لگ جانے کا بہت زیادہ اندیشہ ہے۔ (اِس پر امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا کہ )خزائنُ العرفان کو بھى بے وُضو نہىں چُھو سکتے