قبیلۂ قریش سے نہیں تھا بلکہ عرب کے دِیگر قبائل سے تھا جن کے اَسمائے مُبارَکہ یہ ہیں:حضرتِ سَیِّدَتُنا زىنب بنتِ جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا،حضرتِ سَیِّدَتُنا مىمونہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ،حضرتِ سَیِّدَتُنا زىنب بنتِ خزىمہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا، حضرتِ سَیِّدَتُنا جوىرىہ بنتِ حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا۔ ایک اُمُّ الْمُوْمِنِیْن جو غیر عربیہ تھیں، ان کا تعلق بنی اسرائیل کے قبیلے بنو نضیر سے تھا ان کا نام مبارک حضرتِ سَیِّدَتُنا صفیہ بنتِ حُیَیْرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ہے۔ حضرتِ سَیِّدَتُنا خدیجۃ الکبریٰ اور حضرتِ سَیِّدَتُنا زىنب بنتِ خزىمہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا رَسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى ظاہرى زندگى مىں ہى وفات پا گئى تھىں، جبکہ باقى نو اَزْواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ نے پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ظاہرى وصال کے بعد وفات پائی۔ (1)
معلوم نہ ہوکہ آیاتِ سجدہ کتنی بار پڑھیں تو کیا کرے؟
سُوال: اگر کسى کو معلوم نہ ہوکہ اُس نے آىاتِ سجدہ کتنى بار پڑھى ہىں تو اُس کے لىے کىا حکم ہے؟
جواب:ایسا شخص غور کرے کہ اُس نے آىاتِ سجدہ کتنى بار پڑھی ہوں گى دس بار، پچىس بار، اَلغرض جتنی بار کا اُسے ظَنِّ غالِب(یعنی غالِب گمان) ہو جائے اتنے سجدے کر لے۔ اگر اُس کا ظَنِّ غالِب(یعنی غالِب گمان) ہو کہ 25 بار آیاتِ سجدہ
________________________________
1 - مواھب اللدنیة، المقصد الثانی، الفصل الثالث، ۱ / ۴۰۱-۴۰۲ ماخوذاً