مومنوں پراسى طرح حرام ہىں جس طرح ان کى مائىں حرام ہىں۔ (1) حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى تمام اَزْواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ ىعنى جن سے رَحمتِ عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے نکاح فرماىا، چاہے وہ محبوبِ رَبِّ ذُوالجلال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے وصالِ باکمال (ىعنی Death) سے پہلے اِنتقال فرما چکی ہوں ىا ظاہرى وفات کے بعد انہوں نے وفات پائى ہو۔ ىہ سب کى سب اُمَّت کى مائىں ہىں اور ہر امتى کے لىے اس کى حقىقى ماں سے بڑھ کر لائقِ تعظىم اور واجبُ الاحترام ہىں، ىعنى ان کی عزت اپنے سگے ماں باپ سے بھى بڑھ کر ہے۔ (2) کیونکہ تمام اُمَّہَاتُ الْمُوْمِنِیْن صحابیات کے دَرجے پر ہیں۔
اُمَّہَاتُ الْمُؤمِنِیْن کی تعداد اور اَسمائے مُبارَکہ
اُمَّہَاتُ الْمُؤمِنِیْن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی وہ تعداد جس پر تمام مُحَدِّثِینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کا اِتفاق ہے وہ گیارہ ہے۔ ان مىں سے چھ قبىلۂ قرىش کے اونچے گھرانوں کى چشم و چراغ ہیں جن کے مُبارَک نام ىہ ہىں: حضرتِ سَیِّدَتُنا خدیجۃُ الکبرىٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا،حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّىقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا، حضرتِ سَیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا،حضرتِ سَیِّدَتُنا اُم حبىبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا،حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا،حضرتِ سَیِّدَتُنا سودہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا۔ چار کا تعلق
________________________________
1 - درمنثور، الاحزاب، تحت الآية : ۶، ۶ / ۵۶۶ دار الفکر بیروت
2 - مواھب اللدنیة، المقصد الثانی، الفصل الثالث، ۱ / ۴۰۱-۴۰۲ ماخوذاً دار الکتب العلمیة بیروت