مىں اپنا اِحترام اپنى عزت بنانے والا رِىا کار اور جہنم کا حقدار ہے۔ ہر ایک اپنی نىت پر غور کر لے کہ وہ کس نىت سے عَلى الاعلان صَدَقہ و خیرات کر رہاہے۔ یاد رکھیے ! صَدَقے کے لیے نہ تو ایسا کالا بکرا دینے کی ضرورت ہے جس مىں اىک بھى بال سفىد نہ ہو اور نہ ہی کالى مرغى کو سر پر سے گھماکر دینے کی حاجت بلکہ جو بھی اللہ کی راہ میں دیا جائے وہ صَدَقہ ہے۔
نفلی عبادات دوسروں پر ظاہر نہ کیجیے
سُوال: کىا اپنی نیکیاں دوسروں پر ظاہر کر سکتے ہیں ؟ (1)
جواب: عموماً لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی نىکى بِلا ضَرورت ظاہر کرتے ہىں مثلاً میں اتنى تلاوت کرتا ہوں،مىں نے اتنے قرآنِ پاک ختم کر لىے ہیں،روزانہ اتنے دُرُود شرىف پڑھتا ہوں۔ مجھے بھی آکر کوئی کہتا ہے کہ میں تىن مہىنے کے روزے رکھتا ہوں ،کوئی کیا کہتا ہے اور کوئی کیا کہتا ہے۔ بہرحال اپنی نفلی عبادات ظاہر نہیں کرنی چاہئیں ۔
فرض عبادات اِعلانیہ ادا کیجیے
البتہ فرض عبادات کا معاملہ الگ ہے مثلاً رَمَضان کا روزہ فرض ہے تو اس کو عَلى الاعلان رکھناہے تاکہ کوئى بدگمانى نہ کرے کہ پتا نہىں رکھتا ہو گا یا نہیں ۔ اسى
________________________________
1 - یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)