ساس اپنا یہ ذہن بنائے کہ میری سگی بیٹی بھی تو مجھے نہیں چھوڑتی، وہ بھی مجھے اُلٹا سیدھا جواب دے دیتی ہے اِس کے باوجود میں نہ تو اس کو ڈانٹتی ہوں اور نہ اس سے نفرت کرتی ہوں بلکہ اس کے لیے میر ا پیار بدستور قائم رہتا ہے۔ اب میری بہو اپنا سارا خاندان چھوڑ کر اکیلی ہمارے خاندان میں آگئی ہے اس کے ساتھ بھی محبت بھرا سلوک کرنا چاہیے کہ یہ ہماری ہمدردی کی زیادہ حقدار ہے، اگر اس کے ساتھ یہاں ہمدردی نہ کی گئی تو یہ وقت کیسے گزارے گی۔
مسلمان پر اچھا گمان رکھنا واجب ہے
اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:مومن کے فعل یا بات میں اچھا گمان کرنا واجب ہے، یعنی اس کے قول و فعل کو حتَّی الامکان حُسنِ ظَن پر مَحمول کرنا واجب ہے۔ (1) لیکن ہمارے یہاں معاملہ بالکل اُلٹ ہے اگر بہو مصلے پر بیٹھ کر دُرُود شریف یا تسبیحات وغیرہ پڑھتی ہو تو ساس کہتی ہے: ”یہ ہم لوگوں پر پڑھ پڑھ کر پھونکتی ہے، دیکھو مصلے سے ہٹتی ہی نہیں ہے ،میری بیٹی بیمار ہو گئی ہے،یہ جادو کر رہی ہے، جب سے یہ چڑیل آئی ہے ہمارے گھر میں مَسائل کھڑے ہو گئے ہیں،نماز میں سجدے میں جاکر ہم کو بد دعائیں دیتی ہے اور اگر اس بے چاری نے ان کو دیکھ لیا یا ان کی طرف دیکھ کر سانس لے لیا تو بولتی ہیں ہم پر دَم کررہی ہے۔ “ جبکہ سارے
________________________________
1 - فتاویٰ رضویہ ، ۵ / ۳۲۴ ماخوذاً