Brailvi Books

قسط21: مسلمان کے جوٹھے میں شِفا
22 - 41
 بتائے کہ میں نے یوں جواب دیا تو وہ اس کو مزید شاباش دیتی ہیں جس کے نتیجے میں خود اپنی بہن یا بیٹی کا گھر اُجاڑ دیتی ہیں۔ البتہ میں ایسے خاندانوں کو بھی جانتا ہوں جو اپنی بچیوں سے یہ کہہ دیتے ہیں:”تونے ہم سے کسی قسم کی شکایت نہیں کرنی،تجھے جب بھی ہمارے گھر آنا ہو تیرے لیے دَروازے کھلے ہیں لیکن جس دِن لڑکر آئی تو ہمارا دَروازہ تیرے لیے بند ہے۔ “اِس طرح گھر ٹوٹنے سے بچ جاتے ہیں لیکن بعض نادان گھرانوں میں بچیوں کو کہا جاتا ہے ہمارے ہی گھر بیٹھی رہے ہمارے پاس روٹی بہت ہے اور یوں اس کا  گھر ٹوٹ جاتا ہے۔ 
ساس بہو کے جھگڑے کا حَل
بہرحال ساس بہو کی لڑائی میں بعض اوقات بہو تیز ہوتی اور ساس بے چاری بوڑھی اور بیمار ہوتی پھر یہ بہو اپنے شوہر سے مِل کر اس بوڑھی ساس کو تنگ کرتی ہے۔ کہیں ساس تیز اور پاور فل ہوتی ہےجو بہو کے ناک میں دَم کر دیتی ہے نیز کبھی نندوں کامسئلہ بھی ہوتا ہے کہ نند بھاوج کی بھی آپس میں کم ہی بنتی ہے اور اِن وُجُوہات کی بِنا پر جھگڑے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایسے موقع پر اگر بہو یہ سوچ لے کہ میری ساس میری ماں کی جگہ ہے،  میری ماں بھی مجھے ڈانٹتی اور بُرا بھلا کہتی تھی اِس کے باوجود میں ان سے لڑائی نہیں کرتی تھی لہٰذا اپنی ساس سے بھی لڑائی نہیں کروں گی۔ اگر یہ ذہن بن جائے گا تو اُمید ہے بہو کی طرف سے کبھی جھگڑا نہیں ہو گا۔ یوں ہی اگر بہو ساس کو بُرا بھلا کہتی ہے تو