قیامت کے دِن مَظلوم ہوگا اور اس دِن مَظلوم کے ہاتھ میں ظالِم کا گریبان ہو گا بلکہ”اس ظالم کی نیکیاں بھی اس مظلوم کو دی جائیں گی۔ “(1) اگر یہ مَظلوم ان فَوائد پر نظر رکھ کر صبر کرلے تو جھگڑے ختم ہو جائیں گے۔
بہو میکے میں کسی قسم کی شِکایت نہ کرے
اِسی طرح ساس بہو کے دَرمیان بھی جب کسی بات پر جھگڑا ہو جائے اور ان میں سے کسی ایک کا بالکل قصور نہ ہو یا معمولی سی کوئی غَلَطی ہو تو اسے صبر کرنا چاہیے، جیسے ساس بہو کی لڑائی میں ساس قصور وار ہے اور بہو کا قصور کم ہے یا بالکل نہیں ہے تو بہو کو چاہیے خاموشی اِختیار کرے اور سارا غصہ پی جائے ،نہ اپنے شوہر سے اس کا تذکرہ کرے نہ کسی دوسرے کے سامنے کوئی بات کرے۔ میکے میں تو خواب میں بھی کوئی بات ذِکر نہ کرےکہ اصل جھگڑا ہی یہاں سے شروع ہوتا ہے جب عورت اپنے میکے میں ان باتوں کا ذِکر کرتی ،اپنی ماں بہنوں کے سامنے خوب بھڑاس نکالتی ہےاور وہ جَذبات میں آکر اس کو مزید بھڑکاتی ہیں کہ ”تیرے منہ میں مونگ بھرے تھے، تونے اس چڑیل کو جواب کیوں نہیں دیا؟، سُن کر آ گئی اب ہم سے کبھی شکایت نہ کرنا۔ “ بہرحال اس طرح مائیں بہنیں اس کو غَلَط رویہ اپنانے پر خوب اُکساتی ہیں۔ اگر وہ آکر
________________________________
1 - معجم کبیر، رافع بن اسحاق بن طلحة...الخ، ۴ / ۱۴۸، حدیث : ۳۹۶۹ ماخوذاً دار احیاء التراث العربی بیروت