لڑائی جھگڑے کی اصل وجہ بے صبری ہے
سُوال:لوگ اکثر اِس طرح کے سُوالات پوچھتے ہیں کہ بعض اوقات گھر میں موجود خواتین جیسے والدہ ،بہن اور بیوی کے دَرمیان کسی بات پرنوک جھونک ہوجاتی ہے اس پر خوب غور و فکر کرنے کے بعد ایک فریق کی طرف سے زیادہ غَلَطی معلوم ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف کوئی خاص قصور نہیں ہوتا تو شوہر کبھی اپنی والدہ کی طرف داری کرتا ہے اور کبھی بیوی یا بہن کی، ایسے میں شوہر کو کیا کرنا چاہیے؟ (مفتی صاحب کا سُوال)
جواب:یہ واقعی نازک مُعاملہ ہے،اِس میں عَدل و اِنصاف سے کام لینا بہت ضَروری ہے لیکن ایک فَریق کے حق میں فیصلہ کر کے دوسرے فَریق پر سختی بھی نہ کی جائے کہ اگر والدہ کی غَلَطی ہے تو ان پر سخت کلامی شروع کر دی تو یہ اِنتہائی غَلَط رویہ ہو گا۔ ساس بہو کی آپس میں نوک جھونک تو ہوتی ہی رہتی ہے اگر ان میں سے ایک بھی صبر کرلے تو بات طول ہی نہ پکڑے۔ مگر صبر کرنا کسے آتا ہے صِرف مُنہ سے بول دیا جاتا ہے کہ میں نے صبر کیا ہے۔ اگر واقعی لوگوں میں صبر کرنے کی عادت پیدا ہو جائے تو نہ گھروں میں جھگڑے ہوں نہ دوستوں میں اور نہ ہی وطنِ عزیز میں لڑائی جھگڑے کی فضا قائم ہو۔ ذاتی جھگڑوں کی اصل وجہ ہی بے صبری ہے۔ اگر کسی نے گالی دی یا کسی قسم کی دھمکی دی یا کچھ ظلم کردیا تو سامنے والا خاموش رہ کر اِس پر صبر کر کے اس کے نتیجے میں ملنے والے اَجر پر نظر رکھے گا تو