نیک کام کے لیے اُٹھنے والے ہر قدم کے بدلے نیکیاں
سُوال:جب ہم کسی کے پاس مَدَنی عطیات لینے کے لیے جاتے ہیں تو ”عطیات یا چندے“ کا نام سُن کر ہی اس کا چہرہ اُتر جاتا ہے،ایسی صورت میں ہمیں نااُمیدی سی ہو جاتی ہے کہ اس نے تو پہلے ہی اپنا موڈ آف کر لیا ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
جواب:مزید ہمت و جذبے کے ساتھ مَدَنی عطیات کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ جب کسی سے چندہ مانگا جائے تو چندہ مانگنے والے کا ثواب اسی وقت کھرا ہو جاتا ہے۔ ایسا نہیں کہ سامنے والا جب کچھ رقم دے گا تب ہی چندہ مانگنے والے کو ثواب ملے گابلکہ عطیات کرنے والا جب سے اپنی کوشش شروع کرتا ہے اسی وقت سے اسے ثواب ملنا شروع ہو جاتا ہے۔ حتّٰی کہ اس عظیم کام کے لیے اُٹھنے والے ہر قدم کے عوض اس کو ثواب ملتا ہے۔ اسی وجہ سے میں کہتا ہوں جب عطیات لینے جائیں تو چھوٹے چھوٹے قدم رکھیں کہ جتنے زیادہ قدم اُٹھیں گے اتنا ہی زیادہ ثواب ہو گا۔ یوں ہی مسجد یا کسی بھی نیک کام مثلاً اجتماع کی طرف جانا یا مَدَنی مذاکرے میں شرکت کے لیے چلنا ہو تو چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھائے جائیں اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ثواب ملے گا۔ (1)
________________________________
1 - بندہ جس نیک کام کے لئے بھی قدم اُٹھاتا ہے اس کا وہ قدم شمار کیا جاتا ہے اور اسے ان قدموں کے حِساب سے ثواب دیا جائے گا ۔ (تفسیر صراط الجنان، پ۲۲، یس : تحت الآیۃ : ۱۲ ، ۸ / ۲۳۳ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)