کر مجھے دے دیتے؟آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا:میں جب اندر گیا تو میرے دِل میں خیال آیا کہ یہ جبہ فُلاں کو دے دوں پھر میں نے سوچا کہ نیکی میں دیر نہیں ہونی چاہیے کہیں میرا دِل بدل نہ جائے تو میں نے سوچا پہلے یہ جبہ دے دوں تاکہ میرا ثواب کھرا ہو جائے۔ (1)
راہِ خُدا میں دینے سے مال ضائع نہیں ہوتا
بہت سوں کو تجربہ ہو گا کہ بعض اوقات دِل میں خیال آتا ہے یہ کریں گے وہ کریں گے۔ پھر آہستہ آہستہ سُستی ہونا شروع ہو جاتی ہے خُصُوصاً راہ ِخُدا میں دیتے ہوئے بہت سُستی ہوتی ہے کیونکہ اس میں جیب سے جاتا ہے اور بندہ لیتا تو واہ وا کر کے ہے مگر دیتا آہ آہ کر کے ہے۔ دِل میں کھٹکا ہوتا ہے کہ یار یہ مال گیا حالانکہ راہِ خُدا میں دینے سے مال کہیں نہیں جاتا بلکہ آخرت کے لیے جمع ہو جاتا ہے اور جمع بھی ایسی جگہ ہوتا ہے جہاں سے کسی قسم کی چوری ہونے کا اندیشہ ہی نہیں رہتا۔ بعض لوگ صِرف اپنی حرص کی وجہ سے راہِ خُدا میں مال خرچ کرنے کے لیے آگے نہیں بڑھتے، ان کو مال کی فکر لگی رہتی ہے جبکہ وقت کا کچھ بھروسا نہیں کب بینک لُٹ جائے اور ان کا Locker توڑ کر پیسے چُرالیے جائیں لیکن راہ ِخُدا میں دیا ہوا مال نہ کبھی لُٹ سکتا ہے نہ گھٹ سکتا ہے بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتا ہے۔
________________________________
1 - فتاویٰ رضویہ، ۱۰ / ۸۴ ماخوذاً رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور