پیسے ان کے ہو جائىں گے اور پھر ىہ دے نہىں سکىں گے۔ اگر باپ نے تھوڑی بہت سمجھ رکھنے والے نابالغ بچے سے کہا کہ یہ پیسے تم لے لو ىہ تمہارے ہیں اور انہیں تم اپنى طرف سے مَدَنی عطیات میں دے دو تو ىہ جائز نہىں ہوگا کىونکہ ىہ سمجھ دار بچہ قبضہ کرنے سے اس رَقم کا مالک ہو گىا۔ اگر باپ نے یہ کہا کہ ىہ دس ہزار روپے تمہارے ہو گئے تو باپ کے کہنے سے ہی بچہ ان کا مالِک بن گیا (1)اور اُسے قبضہ میں دىنے کى بھى ضَرورت نہ رہى لہٰذا اِحتیاط کرنا ضَروری ہے۔
ہاتھوں ہاتھ عطیات جمع کروانا زیادہ مفید ہے
سُوال:عطیات کے لیے نیت کر کے ہاتھوں ہاتھ رَقم جمع کروانا زیادہ مفید ہے یا بعد میں جمع کروانا زیادہ مفید ہے؟
جواب:ہاتھوں ہاتھ جمع کروانا زیادہ مفید ہے کہ ”آج نقد کل اُدھار“والا محاورہ تو مشہور ہے۔ راہِ خدا میں دینے کے لیے دِل بدلتا رہتا ہے لہٰذا جیسے ہی نیت بنے تو ممکنہ صورت میں اسی وقت عطیات جمع کروا دئیے جائیں۔ حضرتِ سَیِّدُنا امام باقر عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَادِر جب واش روم (بیتُ الخلا) تشریف لے گئے اسی وقت واپس دروازے پر آکر اپنے خادم کو بُلایا اور اپنا جبہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ جبہ فُلاں کو دے آؤ۔ پھر جب آپ بیتُ الخلا سے فراغت کے بعد باہر تشریف لائے تو خادم نے عرض کیا:حضور!ایسی بھی کیا جلدی تھی،آپ اِطمینان سے فارغ ہو
________________________________
1 - بہارِ شریعت، ۳ / ۷۷، حِصَّہ : ۱۴