Brailvi Books

قسط21: مسلمان کے جوٹھے میں شِفا
16 - 41
جواب: ہمارا اىک ہدف اور خواہش  ہے کہ ہر جامعۃُ المدىنہ خود کفىل ہو جائے اور  اپنے اَخراجات  خود اُٹھائے کیونکہ دعوتِ اسلامى کے خود ہزاروں کام ہىں۔ اِس لىے  طلبائے کِرام،اَساتذہ ٔکِرام اور جامعاتُ المدینہ کی مَجالس سب کو Active (یعنی فَعّال) ہونا چاہىے اور اپنے اپنے جامعۃُ المدىنہ کو خود کفىل بنانے کی کوشش کرنی چاہىے تاکہ یہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائىں۔ اپنے جامعاتُ المدینہ کو خود کفیل بنانے کے لیے خود بھی بڑھ چڑھ کر اس کے لیے ہونے والے مَدَنی عطیات میں حصّہ ملایا کریں اور دوسروں  پر بھی اِنفرادی کوشش کر کے انہیں بھی  مَدَنی عطیات دینے کی ترغیب دِلایا کریں۔ 
نابالغ بچے مَدَنی عطیات میں اپنا حصّہ نہیں ملا سکتے
سُوال : کىا نابالغ بچے بھی مَدَنی عطیات میں اپنا حصّہ ملا سکتے ہیں؟ (1) 
جواب:نہیں۔ یہ شرعی مسئلہ  ىاد رَکھىے کہ نابالغ اپنے Personal(یعنی ذاتی )پیسوں سے نہىں دے سکتا(2) اگرچہ  وہ خوشى سے بھى دے ۔ ہاں نابالغ بچے کے ماں باپ اس کے ہاتھوں دِلوا سکتے ہىں اور دِلوانا بھی چاہىے تاکہ ان کی عادت بنے مگر انہیں رَقم  کا  مالِک نہ کرىں کیونکہ ماں باپ اگر ان کو مالِک کر دىں گے تو وہ 



________________________________
1 -    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی  ہے ۔  (شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ) 
2 -    بہارِ شریعت، ۳ / ۸۱، حِصَّہ : ۱۴ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی