مزارات ہىں، وہاں آرام فرمانے والے صرف صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کى تعداد دس ہزار (10000)ہے جبکہ تابعین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کی تو کوئی گنتی ہی نہیں ہے۔ پھر وہاں بڑے بڑے اَولىا اوربڑے بڑے عاشقانِ رَسول کے مزارات ہیں، اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور اَولىائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے مزارات سے جنَّتُ البقىع بھرا ہوا ہے مگر بظاہر وہاں کوئی مزار (یعنی گنبد نما عمارت)نہیں تو سب کے مزارات بنىں ىہ ضَرورى نہىں ہے۔
تُلمبہ میں جامعۃ ُالمدینہ کا اِفتتاح
سُوال :اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ (۲۲ رَبیع الاوّل ۱۴۴۰ ھ کو) تُلمبہ مىں جامعۃُ المدىنہ کى عمارت کا اِفتتاح ہوا ہے، دُعاؤں سے بھی نواز دیجیے اور کچھ مَدَنی پھول بھی اِرشاد فرما دیجیے ۔
جواب:مَاشَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تُلمبہ پنجاب پاکستان مىں جامعۃُ المدىنہ کا آغاز ہوا ہے۔ اللہ کرے کہ ىہ جامعۃُ المدینہ عِلمِ دِىن کا عظىم مَرکز بنے اور ىہاں سے خوب عُلَما فارغُ التحصیل ہو کر نکلىں اور دُنىا مىں دِىن کا ڈنکا بجائىں،سنَّتوں کى دھوم دھام کرىں اور دعوتِ اسلامى کى نىک نامى کا باعِث بنیں اور جو جو بھی اس میں حصّہ لے اللہ کرىم ان سب کو بے حساب مَغفرت سے مُشَرَّف فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
ہر جامعۃ المدینہ خود کفیل ہونا چاہیے
سُوال:کیا ہر جامعۃ المدینہ خود کفیل ہونا چاہیے؟