مگر یہاں اتنے کم آئے ہیں۔ مجھے کسى نے جواب دیا کہ بڑے عہدے داروں کى طرف آدمى کا رُجحان زیادہ ہوتا ہے اور جو چھوٹے عہدے دار ہوتے ہىں انہیں کوئی پوچھتا نہىں اِس لیے چھوٹے آتے نہىں۔ اگر صِرف چھوٹے عہدے دار کو بلائىں اور اسے کوئى کشش بھی دکھائىں تو وہ آئے گا مگر کسی بڑے عہدے دار کے ہوتے ہوئے نہىں آئے گا۔ اسے ىوں سمجھیے کہ بڑی شخصیت چھوٹی سب شخصىتوں کو جَذب کر لىتى ہے دُنىوى طور پر اىسا ہوتا ہے حالانکہ اىسا نہیں ہونا چاہىے۔
دِینی شخصیات کا اِخلاص
کئی بار میں اور نگرانِ شُورىٰ(مولانا حاجی ابو حامد محمد عمران عطاری) دونوں ایک ساتھ جب کہیں جاتے ہیں یا نگرانِ شُوریٰ مجھے بُلاتے اور ساتھ جانے کے لیے اِصرار کرتے ہىں حالانکہ ىہ سمجھتے ہىں اگر ىہ نہ سمجھىں تو مىں سمجھتا ہوں کہ مىرے جانے سےاسلامی بھائیوں کا رُجحان ان کی طرف کم اور مىرى طرف زیادہ ہوتا ہے تو مىں نگرانِ شوریٰ سے متأثر بھى ہوتا ہوں کہ ان میں کىسا اِخلاص ہے! اپنى شخصىت کو پھىکا کر کے مجھے چمکا رہے ہیں ۔ ایسا 100 سے زائد بار ہوا بلکہ وقتاً فوقتاً ہوتا ہی رہتا ہے۔ اگر نگرانِ شُوریٰ اکىلے ہوں تو ساری عوام کا رُخ اور توجہ کا مَرکز یہی بنیں مگر جب مىں ہوتا ہوں تو بعض اوقات ان سے ہاتھ بھى نہىں ملایا جاتا لىکن یہ ان کا ضبط ہے کہ اس کے باوجود یہ مجھے بُلاتے ہیں