ہی چکے ہیں کہ نیم بے ہوشی میں بھی وہ اپنے مریدوں کیلئے مغفِرت کی دعائیں مانگتے رہے یہاں تک معلوم ہوا ہے کہ بقر عید(۱۴۲۳.ھ) میں انہوں نے ایصالِ ثواب کیلئے ایک قربانی اپنے غریب مُریدوں کی طرف سے اورایک قربانی اپنے فوت شدہ مُریدوں کی طرف سے کی۔ظاہر ہے جو نیم بے ہوشی میں بھی اپنے مریدوں کو نہ بُھولے وہ بَھلا ہوش کے عالَم میں کس طرح بُھلاسکتے ہیں اِنْ شآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ نزْع اور قبْر وحشْر میں بھی عطّاریوں کا بیڑا پار ہے۔
آپ خود یاکسی اور کو مُرید یا طالب بنوانا چاہتے ہیں تو آخِری صفحہ پر دئيے گئے فارم پَر ان کے نام ترتیب وار بمع ولدیت و عُمر لکھ کر عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ محلہ سوداگراں پُرانی سبزی منڈی مکتب نمبر 3 کے پتے پر روانہ فرمادیں۔ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں سلسلۂ عالیہ قادِریہ رَضَویہ عطاریہ میں داخِل کرلیا جائے گا۔(ملخصًااز رسالہ''امیراہلِسنّت کے آپریشن کی جھلکیاں''مطبوعہ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی )