21-12-2002 میں قِبلہ شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارقادری رَضَوی دامت برکاتہم العالیہ کا جب آپریشن ہُوا تو آپریشن کے شُروع سے آخِرتک ساتھ رہنے والے ڈاکٹر( جو امیرِ اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے مُرید بھی ہیں) انہوں نے حَلفیہ بتایا کہ نیم بے ہوشی میں امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کا ایمان افروز انداز ديکھ کر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ،لوگوں کا CROWDہوگیا،امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی رقّت انگیز صداؤں اور دعاؤں کو سُن کر کئی آنکھیں اشکبار تھیں۔اِس دَوران آپ نے وقتاً فوقتاً اپنی زبان سے جو جو ادا کیا اور جن جن کلِمات کی بار بار تکرار کی وہ یہ تھے،
''سب لوگ گواہ ہوجاؤمیں مسلمان ہوں،یا اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں مسلمان ہوں،یا اللہ عَزَّوَجَل!میں تیرا حقیر بندہ ہوں، یا رَسُولَ اللہ (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم )! میں آپ کا ادنیٰ غلام ہوں، اَلْحَمْدُللہ عَزَّوَجَلَ میں غوثُ الاعظم (رضی اللہ عنہ )کا غلام ہوں،اے اللہ عَزَّوَجَل!میرے گناہوں کو بخش دے،اے اللہ عَزَّوَجَل!میری مغفِرت فرما، اے اللہ عَزَّوَجَل!میرے ماں باپ کی مغفِرت فرما، اے اللہ عَزَّوَجَل!میرے بھائی بہنوں کی مغفِرت فرما،یا اللہ عَزَّوَجَل!میرے گھر والوں کی مغفِرت فرما،اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! میرے تمام مریدوں کی مغفِرت فرما،اے اللہ عَزَّوَجَلَّ!حاجی مشتاق کی