Brailvi Books

قبرکُھل گئی
33 - 39
 کشمیر)کے عَلاقہ'' مِیرا تسو لیا ں '' کی مُقیم 19 سالہ نسرین عطّاریہ بنتِ غلام مُرسلین شہید ہو گئیں ۔ مرحومہ سلسلہ عالیہ قادِریہ عطاریہ کے عظیم بُزُرگ شَیخِ طریقت امیرِ اَہلسنّت ،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رَضَوی دامت برکاتہم العالیہ سے مُرید تھیں اور مرتے دم تک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ رہیں۔دعوتِ اسلامی کے زیرِانتظام ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع میں با قاعدگی کے ساتھ شرکت بھی فرماتی تھیں ۔ بعدِ تدفین مرحومہ نسرین عطّاریہ اپنے والِدین اور چھوٹے بھائی کے خواب میں مسلسل آتیں اور کہتیں،'' میں زندہ ہوں اوربَہُت خوش ہوں '' بار بار اِس طرح کے خواب دیکھنے کی بِنا پر والِدَین کو تشویش ہو ئی کہ کہیں قَبْر میں ہماری بیٹی زندہ تو نہیں!
    انہوں نے وہاں کے اسلامی بھائیوں سے رابِطہ کیا، اسلامی بھائیوں نے مُفتیانِ کرام سے راہنمائی لی تو انہوں نے منع فرمایا مگر مرحومہ کے والِد اور دیگرگھر والوں نے ۸ ذوالقعدۃُ الْحَرام ۱۴۲۶ھ (10.12.05) شبِ پیر رات تقریباً 10بجےقَبْر کو کھول دیا، یکبارگی آنے والی خوشبوؤں کی لپٹوں سے مَشامِ دماغ مُعَطَّر ہو گئے ! شہادت کو 70 ایّام گزر جانے کے باوُجُود نسرین عطّاریہ کا کفن سلامت اور بدن بِالکل تروتازہ تھا ۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحَمَّد
Flag Counter