| قبرکُھل گئی |
حلفيہ بیان کا لُبِّ لُباب ہے ميرے والد دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ تھے۔جس کی برکت سے ہمارے گھر ميں مدنی ماحول قائم ہوا۔مجھ سميت دو بھائی اور ان کے تمام گھر والے قبلہ شيخِ طريقت امیراَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ سے مريد ہو گئے۔ ماہ صفرالمظفر۱۴۲۳ھ میرے دادا جان بھی اميرِ اہلسنت کے مریدبن گئے وہ دعوتِ اسلامی کے ماحول کو بہت پسند فرماتے تھے ۔دادا جان غلام جان عطاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری چند دن بيمار رہ کر 14ستمبر 2004 ۹شوال المکرّ م ۱۴۲۳ھ بر وز منگل رات کم و بیش 8 بجےعشاء سے کچھ دير قبل با آوازِ بلند کلمہ طیبہ
لَآ اِلٰہَ اِلَّا للہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ
پڑھتے ہوئے انتقال کر گئے ۔انہيں جی .او.آر. کالونی بابن شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ قبرستان ميں دفن کيا گيا ۔
۹ محرم الحرام ۱۴۲۷ھ کو ميرے پھوپھا جوکہ ''راج گيری ''کا کام کرتے ہيں اور دينی ماحول سے دورہيں والد صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ آپ کے والد صاحب غلام جان عطاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری کی قبر اگر کہو تو پکی بنوالوں۔اجازت ملنے پر کم و بیش صبح 11:00بجے وہ اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ قبرستان پہنچے اور قبر بنانے کے لئے مٹی ہٹائی تويہ سوچ کر قدموں کی جانب سے ايک تختہ ہٹايا کہ دیکھوں اندر کیا ہے تو ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں کہ چار سال پہلے دفن کئے جانے والے غلام جان عطاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری کا کفن سلامت نظر آيا ۔ ہمت بڑھی