Brailvi Books

قبرکُھل گئی
29 - 39
     انتقال کے ٹھیک26دن بعد ۱۶محرم الحرام۱۴۲۷ھ بروز بدھ جب ان کے بڑے بیٹے قبرستان فاتحہ کیلئے پہنچے تو دیکھا کہ قبر کی ایک جانب شگاف ہوگیا ہے اورہر طرف بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔باہم مشورے سے شگاف بند کردیا گیا۔حیدرآباد کے مقیم ایک اسلامی بھائی نے حلفیہ بتایا کہ ۱۷ صفر المظفر۱۴۲۷ھ18 مارچ 2006ء بروزہفتہ شام 4:00بجے حاجی عبدالغنی مرحوم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بڑے بیٹے کا فون آیا کہ والد صاحب کی قبر کی دیواریں گر چکی ہیں ، دُرُستی کیلئے شاید قبر کھولنا پڑے۔ میں فوراً قبرستان پہنچا اور کئی لوگوں کی موجودگی میں جب قبر دُرُست کرنے کیلئے تختے ہٹائے گئے تو خدا کی قسم! میں نے دیکھا کہ حاجی عبدالغنی عطاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری کا جسم 57دن گزرنے کے باوُجود سلامت ہے بلکہ کفن بھی میلا نہیں ہوا۔ قبر کے آس پاس بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ دعوتِ اسلامی سے وابستگی کی عظیم الشان بہار دیکھ کر سب کی زبان پر سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ جاری ہو گیا۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحَمَّد
(۶) غلام جان عطاری کا جسم وکفن سلامت
    لطيف آباد نمبر2 ( حیدر آباد بابُ الاسلام )کے مقيم ایک اسلامی بھائی کے
Flag Counter