Brailvi Books

قبرکُھل گئی
28 - 39
ضَرورت پیش آئی تو ایک ایمان افروز منظر سامنے تھا،والد صاحب عبدالسمیع عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری کا کَفَن، اور جسم40دن گزرنے کے باوُجود سلامت تھا اور خوشبو کی لپٹیں آرہی تھیں۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحَمَّد
 (۵)حاجی عبدالغنی عطاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری
    حاجی عبدالغنی عطاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری جن کے گھر میں تمام افراد امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے مرید اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہیں۔ شدید علالت کے باعث میمن چیریٹیبل ہسپتال حیدرآباد(سندھ) میں داخِل کئے گئے ۔ ۱۹ ذوالحجۃُ الحرام ۱۴۲۶ھ کی صبح اِن پَر شدید گھبراہٹ طاری تھی،مگراچانک وہ تیمم کر کے نماز ا دا کرنے لگے اور ایک اسلامی بھائی کے ہاتھوں تجدیدِ ایمان کی سعادت حاصل کی۔ اس دوران حیرت انگیز طور پر ان کی گھبراہٹ میں کمی رہی۔ شبِ ہفتہ کم و بیش10:26پر والد صاحب کی حالت بگڑتی دیکھ کر ان کے بڑے بیٹے نے بُلند آواز سے پڑھا
،اِمداد کُن اِمداد کُن از بندِ غم آزاد کُن در دین و دُنیا شاد کُن یاغوثِ اعظم دستگیر،
والد صاحب اب چونکہ بول نہیں سکتے تھے لہٰذا یہ سن کر اشارے سے توبہ کرنے لگے اور کچھ ہی دیر بعد ان کی روح قفسِ عُنصری سے پَرواز کر گئی۔
Flag Counter