Brailvi Books

قبرکُھل گئی
27 - 39
برکاتہم العالیہ کے سنتوں بھرے بیانات کی کیسٹیں گھر میں سنانے کا سلسلہ رکھا، اَلْحَمْدُ للہ عَزَّوَجَلَّ اسکی بَرَکت سے والد صاحب سمیت تمام گھر والے بھی امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے مرید بن گئے اور ایک دن والد صاحب نے امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے بیان کی کیسٹ''قبْر کی پکار'' سن کر چہرے پر داڑھی شریف بھی سجالی نماز وہ پہلے ہی شروع فرماچکے تھے۔چند دن بیمار رہے اور انہیں راجپوتانہ ہسپتال میں داخل کرادیا گیا۔20جولائی 2004بروز منگل دوپہر کم و بیش ایک بجکرتیس مِنَٹ پر میری اور دیگر رشتہ داروں کی موجودگی میں والد صاحب عبدالسمیع عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہ ِاْلباری بلند آواز سے کلمۂ طیبہ
لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللہِ
صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا وِرْد کرنے لگے یہاں تک کہ ان کی روح پر واز کر گئی۔
سبز لبا س:
    کم و بیش3 دن بعد میری 5سالہ بیٹی نے بتایا کہ رات میں نے دادا ابو کو خواب میں دیکھا کہ وہ بہت خوش تھے اور مسکَرارہے تھے، ان کا چہرہ بہت روشن لگ رہا تھا ، انہوں نے سبز رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔کہہ رہے تھے کہ میں یہاں بہت آرام میں ہوں۔

    کم و بیش 40دن بعد شدید بارش ہوئی اور قبر ایک جانب سے دب گئی۔ خَطَرہ تھا کہ اندر گرجائے گی۔ لہٰذا جب قبْر کو دُرُست کرنے کیلئے کھولنے کی
Flag Counter