الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم سینہ پر لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللہ،صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم ناف اور سینے کے درمیانی حصہ کَفَن پر یا غوثِ اعظم دستگیر رضی اللہ عنہ ، یا امام اباحنیفہ رضی اللہ عنہ ، یا امام اَحمد رَضا رضی اللہ عنہ ، یا شیخ ضیاء الدین رضی اللہ عنہ اور انکے پیرو مرشِد کا نام لکھا گیا۔ دفن کرتے وقت دیوارِ قبر میں طاق بنا کر عَہدنامہ ، نقشِ نعلین ودیگر تبرکات وغیرہ رکھے گئے ۔ بعدِ دفن قبْرپر اذان بھی دی گئی اور کم و بیش بارہ گھنٹے تک ان کی قبْر کے قریب اسلامی بھائیوں نے اجتماع ذکْر و نعت جاری رکھا۔
وفات کے تقریباًساڑھے تین سال بعد بروز منگل ۶جمادی الثانی ۱۴۱۸ھ ( 7-10-97) کا واقعہ ہے ایک اور اسلامی بھائی محمد عثمان قادِرِی رَضَوی کا جنازہ اسی قبرستان میں لایا گیا۔ کچھ اسلامی بھائی مرحوم محمد احسان عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری کی قبْر پر فاتحہ کیلئے آئے تو یہ منظر دیکھ کر انکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں! کہ قبر کی ایک جانب بہت بڑا شِگاف ہوگیا ہے اور تقریبًا ساڑھے تین سال قبل وفات پانے والے مرحوم محمد احسان عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری سرپر سبزسبز عمامہ شریف کا تاج سجائے خوشبودار کَفَن اوڑھے مزے سے لیٹے ہوئے ہیں۔ آناً فاناً یہ خبر ہر طرف پھیل گئی اور رات گئے تک زائرین محمد احسان عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری کے کَفَن میں لپٹے ہوئے ترو تازہ لاشے کی زیارت کرتے رہے۔ ( یہ واقعہ بھی کئی اخبارات میں شائع ہوا)
تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیرغیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کے بارے