Brailvi Books

قبرکُھل گئی
23 - 39
(۲)محمد احسان عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری
    باب المدینہ کراچی کے علاقے گلبہار کے ایک ماڈرن نوجوان بنام محمد احسان دعوت اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوئے اور امیراَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے مرید بن گئے ۔ ایک ولیِ کامل سے مرید تو کیا ہوئے ان کی زندگی میں مَدَنی انقلاب برپا ہوگیا۔ چہرہ ایک مٹھی داڑھی کے ذریعہ مَدَنی چہرہ بن گیا اور سر پر مستقل طور پر سبز سبز عمامے کا تاج جگمگ جگمگ کرنے لگا۔ انہوں نے دعوتِ اسلامی کے مدرسۃالمدینہ (بالغان) میں قرآن ناظرہ ختم کرلیا اور لوگوں کے پاس جاجا کر نیکی کی دعوت کی دھومیں مچانے لگے۔ ایک دن اچانک انہیں گلے میں دَرْد مَحسوس ہوا، علاج کروایا مگر " مَرض بڑھتا گیا جُوں جُوں دوا کی " کے مِصداق گلے کے مَرَض نے بَہت زیادہ شدّت اختیارکرلی یہاں تک کہ قریبُ المرگ ہوگئے۔
مَدَنی وصیت :
     اسی حالت میں انہوں نے امیراَہلسنّت دامت برکا تہم العالیہ کے مطبوعہ مَدَنی وصیت نامہ کو سامنے رکھ کر اپنا وصیت نامہ تیار کروا کر اپنے عَلاقے کے نگران کے سِپُرد کردیا اور پھر سَدا کیلئے آنکھیں مُوند لیں۔ وقتِ وفات ان کی عمْر تقریبًا پینتیس سال ہوگی۔ انہیں گلبہار کے قبرستان میں سِپُردِ خاک کردیا گیا۔ حسبِ وصیت بعدِ غسل کَفَن میں چہرہ چُھپانے سے پہلے پیشانی پر انگشتِ شہادت سے بِسْمِ اللہِ
Flag Counter