Brailvi Books

قبرکُھل گئی
21 - 39
تھے دُرود و سلام کی صداؤں میں شہید کی لاش کو اٹھا کر دوسری جگہ پہلے سے تیار شدہ قبْر میں منتقل کردیا گیا (یہ واقعہ مختلف اخبارات میں بھی شائع ہوا۔ )
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحَمَّد
    امیرِ اَہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے حملے کے واقعہ کے بعد بارگاہِ رسالت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ایک اِستِغاثہ پیش کیا۔(اس کے چند اشعار ہدیہ ناظرین ہیں جسے پڑھ کر اسلافِ کرام کی یادیں تازہ ہونگی کہ آپ دامت برکاتہم العالیہ اپنے قاتلوں کو بھی دعائے خیر سے نوازتے ہیں)
اچانک دشمنوں نے کی چڑھائی یا رسول اللہﷺ		شہید دو   ہوگئے   اسلامی  بھائی یا  رسول  اللہ  ﷺ

 مِرا  دشمن   تو  مجھ   کو  ختم  کرنے  آہی پہنچا تھا		میں قرباں تم نے میری جاں بچائی یا رسول اللہ ﷺ

 عدو جھک  مارتا ہے  خاک اڑاتا  ہے تیرے قربان		مجھے   اب  تک نہ  کوئی  آنچ آئی یا رسول اللہ ﷺ

 شہید    دعوت   اسلامی سجاد   واُحد   آقا  ﷺ		رہیں  جنت  میں یکجا   دونوں   بھائی  رسول  اللہ ﷺ

 نہیں سرکارﷺذاتی دشمنی  میری کسی سے بھی         	ہے میری نفس و  شیطاں سے  لڑائی یا رسول اللہ ﷺ

 حْقوق  اپنے کئے  ہیں درگزر دشمن کو بھی سارے		اگر چہ   مجھ   پہ   ہو   گولی چلائی یا رسول  اللہ  ﷺ

 تمنا   ہے   میرے   دشمن   کریں  توبہ  عطا کردو		انہیں  دونوں   جہاں  کی  تم  بھلائی یا رسول اللہ ﷺ

 اگر چہ  جان  جائے  خدمتِ  سنت نہ چھوڑوں گا		شہا   کرتے   رہیں  مشکل   کشائی  یا  رسول اللہ ﷺ

 تمنا  ہے  تیرے عطّارؔ  کی یوں  دھوم مچ جائے		مدینے   میں   شہادت   اس  نے  پائی یا رسول اللہ ﷺ
Flag Counter