Brailvi Books

قبرکُھل گئی
20 - 39
عام مقبولیت اور اسلام کی حقیقی شان و شوکت کا عُروج برداشت نہ کرتے ہوئے " کسی" کے اشارے پر دَہشت گردوں نے دنیائے اہلسنّت کے امیرشَیخِ طریقت ،امیرِ اَہلسنّت ،بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادِری رَضَوی دامت برکاتہم العالیہ کی جان لینے کی کوشش کی تھی۔ مگر ''جسے خدا رکھے اسے کون چکھے'' کے مصداق دشمن کا منصوبہ خاک میں مل گیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سنتوں کی مزید خدمت لینے کے لئے اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے عاشق کو آنچ نہ آنے دی۔
    اس فائرنگ کے نتیجے میں مبلغِ دعوت اسلامی محمد سجاد عطّار ی اور الحاج محمد اُحد رضا عطّاری جام شہادت نوش کر گئے۔ دونوں شہیدانِ دعوت اسلامی کو مرکز الاولیاء لاہور کے مشہور ''مِیانی قبرستان''میں سپردِ خاک کیا گیا۔ تدفین کے تقریباً آٹھ ماہ بعد لاہور میں شدید بارشیں ہوئیں۔ جس کے سبب شہیدِ دعوت اسلامی حاجی اُحد رضا عطّاری علیہ رَحْمَۃُاللہِ الْباری کی قبر مُنْہَدِم ہوگئی ۔

    اَعِزّہ کی خواہش پر لاش کی منتقلی کا سلسلہ ہوا ۔کافی لوگوں کی موجودگی میں مِٹی ہٹا کر جب چہرے کی طرف سے سِل ہٹائی گئی تو خوشبو کی لَپَٹ سے لوگوں کے مَشّامِ دماغ معطّر ہوگئے۔مزید سلیں ہٹالی گئیں ۔ عینی شاہدین کے بیان کے مطابق شہیدِ دعوتِ اسلامی حاجی اُحد رضا عطّاری کا کفن تک سلامت تھا۔ تدفین کے وقت جو سبز سبز عمامہ شریف سر پر باندھا گیا تھا وہ بھی اسی طرح سجا ہوا تھا ۔ چہرہ بھی پھول کی طرح کھلا ہوا تھا ہاتھ نماز کی طرح بندھے ہوئے تھے ۔جبکہ شہید کو جہاں گولیاں لگی تھیں وہ بھی زَخْم تازہ تھے اور کفن پر تازہ خون کے دھبے صاف نظر آرہے
Flag Counter