حضرتِ سیدنا ملا علی قاری علیہ رحمۃ اللہ الباری نے ارشاد فرمایا : اَولیاء کرام رضی اللہ عنھم کی دونوں حالتوں یعنی حیات و ممات میں اصلاً فرق نہیں ، اسی لئے کہا گیا ہے! کہ وہ مرتے نہیں بلکہ ایک گھر سے دوسرے گھر تشریف لے جاتے ہیں۔
(مرقاۃ المفاتیح،کتاب الصلوٰۃ،باب الجمعۃ،الحدیث،۱۳۶۶، ج ۴۵۹۳،دارالفکر بیروت)
جب صحابہ و اولیائے کرام علیھم الرضوان کا یہ مرتبہ ہے، توحضرات انبیاء علیھم الصلوٰۃ السلام کی کیا شان ہوگی۔ پھر حضور سید الانبیاء شفیع المذنبین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰٰلہٖ وسلَّم کے جسم اطہر کا کیا کہنا ، یقینًا وہ اپنی قبر منور میں جسمانی حیات مقدسہ کے ساتھ زندہ ہیں۔حدیث مبارکہ ہے:''بے شک اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیھم السلام) کے جسموں کو زمین پر کھانا حرام فرمادیاہے ۔اللہ عزوجل کے نبی علیہ السلام زندہ ہیں اور ان کو روزی بھی دی جاتی ہے۔''
(سنن ابن ماجہ ،کتاب الجنائز ،باب ذکر وفاتہ ودفنہ ،الحدیث۱۶۷۳،ج۲،ص۲۹۱،دارالمعرفۃ بیروت)
ہو سکتا ہے کسی کے ذہن میں یہ وسوسہ آئے !کہ یہ تو پہلے دور کے واقعات