Brailvi Books

قبرکُھل گئی
17 - 39
بالکل زندوں کی طرح ترو تازہ اور نرم تھا۔کسی نے آپ کے رخسارِ مبارَک پر انگلی رکھی تو زندہ آدمیوں کی طرح بدن میں خون کی روانی کی سُرخی ظاہر ہوئی اور چہرهٔ انور پر اس خط بنوانے کا نشان بھی باقی تھا ،جو وفات سے قبل آپ رضی اللہ عنہ نے بنوایا تھا۔ آپ سلسلۂ عالیہ شاذلیہ کے شیخ تھے اور آپ کے چھ لاکھ ، بارہ ہزار پینسٹھ مریدین تھے۔ ۱۶ ربیع النور  ۸۷۰؁ھ کو آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔ مزار مبارک ''مراکش '' میں مرجعِ خلائق ہے۔ آج بھی آپ رضی اللہ عنہ کی قبرِ انور سے مشک کی خوشبو آتی ہے۔ لوگ بکثرت آپ کے مزار فائض ُ الانوار پردلائل الخیرات شریف پڑھتے ہیں۔
(مطالع المسرات، ص۴، نوریہ رضویہ سردارآباد (فیصل آباد))
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحَمَّد
(7)حضرت امام احمدبن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں ہے سید نا اما م احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کی وفات شریف کے230 سال کے بعد آپ کی قبر ِ انور کے پہلو میں جب کسی رضی اللہ عنہ کیلئے قبر کھودی گئی تو اتفاق سے آپ کی قبر کھل گئی۔ لوگوں نے دیکھا کہ230 برس گزر جانے کے باوجود امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کا کفن صحیح وسالم اور بدن
Flag Counter