بالکل زندوں کی طرح ترو تازہ اور نرم تھا۔کسی نے آپ کے رخسارِ مبارَک پر انگلی رکھی تو زندہ آدمیوں کی طرح بدن میں خون کی روانی کی سُرخی ظاہر ہوئی اور چہرهٔ انور پر اس خط بنوانے کا نشان بھی باقی تھا ،جو وفات سے قبل آپ رضی اللہ عنہ نے بنوایا تھا۔ آپ سلسلۂ عالیہ شاذلیہ کے شیخ تھے اور آپ کے چھ لاکھ ، بارہ ہزار پینسٹھ مریدین تھے۔ ۱۶ ربیع النور ۸۷۰ھ کو آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی۔ مزار مبارک ''مراکش '' میں مرجعِ خلائق ہے۔ آج بھی آپ رضی اللہ عنہ کی قبرِ انور سے مشک کی خوشبو آتی ہے۔ لوگ بکثرت آپ کے مزار فائض ُ الانوار پردلائل الخیرات شریف پڑھتے ہیں۔