| قبرکُھل گئی |
ان دونوں مقدس ہستیوں کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور ان میں ایک عجیب چمک تھی۔وہاں موجود جرمن ماہر چشم جو بین الاقوامی شہرت کا مالک تھا ،اس تمام کاروائی میں بڑی دلچسپی لے رہا تھا ۔ وہ اس منظر کو دیکھ کر بے اختیار آگے بڑھا اور مفتی اعظم سے کہنے لگاکہ مذہبِ اسلام کی حقانیت اور ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی بُزُرگی کا اس سے بڑھ کر اور کیاثُبوت ہوسکتا ہے، اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔(سبحان اللہ عزوجل) کم و بیش ۷۱ سال قبل ہونے والا یہ ایمان افروز واقعہ تقریبًا ۲۰ ، ۲۵ سال کے دوران بار ہا اردو جرائد میں شائع ہوتا رہا ہے۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحَمَّد
(6)حضرت شیخ محمد بن سلیمان جزولی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
''مطالع المسرات'' میں ہے کہ دلائل الخیرات شریف کے مصنف حضرت شیخ محمد بن سلیمان جَزُولی رحمۃ اللہ علیہ کو کسی بد نصیب حاسد نے زہر کھلا دیا اور آپ نمازِ فجر کی پہلی رکعت کے دوسرے سجدہ میں یا دوسری رکعت کے پہلے سجدے میں انتقال فرماگئے۔ مقام سوس میں اسی دن تدفین عمل میں لائی گئی۔77 برس کے بعد لوگ آپ کے جسم مقدس کو مزارِ مبارک سے نکال کر '' مراکش'' لے آئے، آپ کا کفن سلامت اور بدن