اُمور ِسلطنت میں اِنہماک کے باعث شاہ ِعراق یہ خواب قطعی بھول گئے۔ تیسری شب حضرت حذیفہ الیمانی رضی اللہ عنہ نے عراق کے مفتئ اعظم کو خواب میں یہی ہدایت کی۔ چنانچہ مفتی اعظم عراق نے وزیراعظم کے ساتھ بادشاہ سے ملاقات کی اور خواب سنایا۔مفتی اعظم نے صحابہ کرام علیھم الرضوان کے مزارات کو کھولنے اور ان کو منتقل کرنے کا فتویٰ دیدیاجواخبارات میں شائع کردیا گیا۔ اس موقع پر انتہائی محتاط اندازے کے مطابق کم و بیش پانچ لاکھ افرادنے شرکت کی۔بروز پیر شریف بارہ بجے کے بعد لاکھوں افراد کی موجودگی میں مزاراتِ مقدسہ کھولے گئے تو معلوم ہوا کہ مزار میں نمی پیدا ہو چلی تھی۔ پہلے حضرت حذیفہ الیمانی رضی اللہ عنہ کے جسْمِ مبارَکہ کو کرین کے ذریعے زمین سے اسطرح اوپر اٹھایا گیاکہ ان کا مقدس جسم کرین پر نسب کئے ہوئے اسٹریچر پر خود بخود آگیا۔جسمِ مُبارَک کوبڑے احترام سے ایک شیشے کے تابوت میں رکھا گیا۔ اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے جسم مبارَکہ کو مزار سے باہر نکالا گیا۔الحمدللہ عَزَّوَجَلَّ دونوں اصحاب ِ رسول (رضی اللہ عنھما)کے اجسامِ مقدسہ اورکفن حتٰی کہ ریش ہائے مبارَک کے بال تک بالکل صحیح سلامت تھے۔ بلکہ اجسام مقدسہ کو دیکھ کر تو یوں محسوس ہوتا تھاکہ شاید انہیں رحلت فرمائے ہوئے دو تین گھنٹے سے زائد وقت نہیں گزرا۔