(5)حضرت حُذیفہ الیمانی اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما
پوری دنیا سے آنے والے لاکھوں زائرین کی موجودگی میں دو صحابہ کرام حضرت حذیفہ الیمانی اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اجسام مبارَک کی منتقلی کا یہ واقعہ غالباً ۲۰ ذوالحجہ ۱۳۵۱ ہجری میں پیش آیا ۔
جس کی تفصیل کچھ یوں ہے کو دو رات برابر شاہِ عراق کو صحابی رسول حضرت حذیفہ الیمانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خواب میں تشریف لا کر ارشاد فرمایاکہ میرے مزار میں پانی اور حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار میں نمی آنا شروع ہوگئی ہے۔ اس لئے ہم دونوں کو اصْل مقام سے منتقل کر کے دریائے دِجلہ سے ذرا فاصلے پر دفن کردیا جائے۔ (حضرت حذیفہ الیمانی رضی اللہ عنہ حضورپُر نور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰٰلہٖ وسلَّم کے راز دار صحابی رضی اللہ عنہ کے طور پر مشہور ہیں حدیث پاک میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان رازوں کو