Brailvi Books

قبرکُھل گئی
13 - 39
(3)حضرت سیدناحمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور حکومت میں مدینہ منورہ کے اندر نہریں کھودنے کا حکم دیا، ایک نہر حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار اقدس کے پہلو میں نکل رہی تھی۔ لاعلمی میں اچانک نہر کھودنے والے کا پھاوڑا آپ کے قدم مبارک پر پڑ گیا اور آپ کا پاؤں کٹ گیا، تو اس میں سے تازہ خون بہ نکلا، حالانکہ آپ کو دفن ہوئے چالیس سال گزر چکے تھے۔
(حجۃ اللہ علی العالمین ،من کرامات عبد اللہ ،ص۶۱۵ ملخصاً،مطبوعہ برکاتِ رضا ،ہند)
    بعد ِانتقال تازہ خون کا نکلنا، ا س بات کا ثبوت ہے کہ شہداء کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین اپنی قبروں میں زندہ ہیں۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اُن پر رَحْمت ہو اور اُن کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!     صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحَمَّد
 (4)حضرت سیدناعبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا جسم مبارک دو مرتبہ قبر مبارک سے نکالا گیا ۔ پہلی مرتبہ چھ ماہ کے بعد نکالا گیا، تو وہ اسی حالت میں تھے جس حالت میں دفن کیا گیا تھا۔
(صحیح البخاری ،کتاب الجنائز،باب ھل یخرج ا لمیت ،الحدیث ۱۳۵۱،ج۱،ص ۴۵۴ ،دارالکتب العلمیۃ بیروت)
     حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے دوسری مرتبہ چھیالیس برس کے بعد اپنے والد ماجد ( یعنی حضرت عبدا للہ رضی اللہ عنہ) کی قبر کھود کر ان کے مقدس جسم
Flag Counter