فقہی جُزئیے کی روشنی میں معلوم ہوا کہ طے شُدہ یا اِس سے کم سُواریاں بٹھانی جائز اور ایک بھی زائد بٹھانی ناجائز ۔ ہاں جہاں یہ عُرف ہو کہ طے شُدہ سُواریوں سے دو چار زائد ہو جانے پر اِعتراض نہیں ہوتا وہاں 40کے بجائے 41 بٹھانے میں حَرَج نہیں ۔ ایسے موقع پر آسانی اس میں ہے کہ سواریوں کی تعداد بتانے کے بجائے پوری گاڑی کی بکنگ کروا لی جائے جیسا کہ ہمارے ملک میں بارات وغیرہ کے لئے مکمَّل بس کی بکنگ ہوتی ہے اور اس میں سواریوں کی تحدید (یعنی تعداد کی حدبندی) نہیں ہوتی ۔
ٹرین میں بھی طے شدہ سُواریاں ہی بٹھایئے
سُوال : اگر ٹرین کی پوری بوگی بُک کروا لی جائے تو کیا اب ہم اس میں اپنی مرضی سے جتنی چاہیں سُواریاں بٹھا سکتے ہیں؟
جواب : ایک بوگی بُک کروائی ہو یا پوری ٹرین، جتنی سُواریوں کا قانون ہے اور جتنی سُواریوں کا کِرایہ ادا کیا ہے صِرف اُتنی ہی سُواریاں بٹھا سکتے ہیں ۔ طے شدہ سے زائد ایک بھی سُواری مفت بٹھائیں گے تو گنہگار اور دوزخ کے حقدار ہوں گے ۔ (1)اس حوالے سے ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کیسی اِحتیاط فرمایا کرتے اس کی ایک جھلک ملاحظہ کیجیے ۔ چنانچہ منقول ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبدُ اللہ بن مبارک عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْخَالِق (کرائے کے )جانور پر سوار تھے کہ کسی
________________________________
1 - چندے کے بارے میں سوال جواب، ص۱۰۶مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی