Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط43: تنگ وقت میں نماز کا طریقہ
35 - 37
خُصُوصاً بڑے اِجتماعات کے اِختِتام میں دَیر سَوَیر ہوجاتی ہے ، پھر واپَسی میں بِھیڑ کی وجہ سے بھی بعض اَوقات بس تک پہنچتے پہنچتے تاخیر ہو جاتی ہے ۔  لہٰذا پہلے ہی سے اَندازہ لگا کرایک آدھ گھنٹہ زِیادہ وَقت طے کر لینا مناسِب ہے ۔  مثلاً 10 بجے اجتِماع سے فارِغ ہو جاتے ہیں تو 11بجے تک کا وقت طے کر لیا جائے اور گاڑی والے سے دَرخواست کر دی جائے کہ ہو سکتا ہے ہم جلد آ جائیں ، اگر مناسِب سمجھیں تو بس چلا دیجئے  اور اگر نہ چلانا چاہیں تو کوئی بات نہیں ہم 11 بجے تک اِنتظار کر لیں گے ۔ اِس طرح کی تَرکیب بنانے سے اِنْ شَآ ءَ اللّٰہ  عَزَّوَجَلَّ کافی آسانی رہے گی ۔   
طے شدہ سے زائد سُواری بِٹھانا
سُوال :  پوری بس کرائے پر بُک کروائی اور طے ہوا کہ 40 سُوار یاں بٹھائیں گے ۔ مگر روانگی کے وَقت 41 اِسلامی بھائی ہو گئے کیا کریں؟ 
جواب : صَدرُ الشَّریعہ، بَدرُ الطَّریقہ حضرت علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : اِس باب میں قاعِدۂ کلیہ(یعنی اُصول) یہ ہے کہ عَقد ( یعنی سودا طے کرنے ) کے ذَرِیعے سے جب کسی خاص مَنْفَعَت کا اِستحقاق(یعنی مخصوص فائدہ حاصِل کرنے کا حق حاصِل ) ہو تو وہ (فائدہ) یا اس کی مِثل ( یعنی اُس کے جیسا) یا اُس سے کم دَرَجہ کا (فائدہ) حاصِل کرنا، جائز ہے اور زیادہ حاصِل کرنا جائز نہیں ۔ (1) اس 



________________________________
1 -    بہارِ شریعت، ۳ / ۱۳۰، حصہ : ۱۴