Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط43: تنگ وقت میں نماز کا طریقہ
34 - 37
 لوٹا دے ، اگر رکھ لے گا تو  گنہگار ہو گا ۔  
دو طرفہ کرائے کی گاڑی کیلئے اِحتیاطیں
سُوال :  سُنَّتوں بھرے اِجتماع وغیرہ کیلئے بس یا ویگن دو طرفہ کرائے پر لینے کی صورت میں واپسی میں دیر ہو جانے پر گاڑی والا ناراض نہ ہو اِس کے لئے کیا کیا اِحتیاطیں کرنی چاہئیں؟ 
جواب :  آنے جانے کا وقت گھڑی کے مُطابق طے کر لیجئے اور وَقت وُہی طے کیجئے جس کو آپ نبھا سکیں تاکہ طے شُدہ وقت سے تاخیر نہ ہو ۔ یہ شکایت فُضُول ہے کہ اسلامی بھائی وقت پر نہیں پہنچتے ! اسلامی بھائیوں کی عادَتیں کس نے خراب کیں؟ کیا یہ معمول کی بسوں اور ٹرینوں میں بھی دیر سے پہنچتے ہوں گے ! ہرگز نہیں، وہاں تو شاید وَقت سے پہلے ہی پہنچ جاتے ہوں گے ! تو آخر سُنَّتوں بھرے اِجتماع کی بسوں کیلئے ہی تاخیر سے کیوں آتے ہیں؟ بات دَراصل یہ ہے کہ بعض نادان ذِمَّہ داران خود کوتاہیاں کرتے ، اِس کا اُس کا اِنتظار کرتے اورکبھی اپنا اِنتظار کرواتے ہیں ، اِس طرح تاخیر کا مَرض بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ ہونا یہی چاہئے کہ جو آئے آئے ، نہیں آئے نہیں آئے ، ذِمَّہ داران بِغیرکسی کا اِنتظار کئے بسیں چلوا دیں، ایسا کریں گے تو اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ماتحتوں کا ذِہن خود ہی بن جائے گا ۔  ہاں پانچ سات مِنَٹ کی تاخیر جو کہ گاڑی والے نیز وقت پر آ جانے والے اسلامی بھائیوں پر گِراں نہ ہو تو حَرَج نہیں ۔