چھری دے کر فرمایا: اس پرندے کو ایسی جگہ ذبح کر کے لاؤ جہاں کوئی دیکھنے والا موجود نہ ہو ۔اس نوجوان کو بھی اسی طرح پرندہ دیا اور اس سے بھی وہی بات فرمائی۔ تھوڑی دیر کے بعد ان میں سے ہر ایک ذبح کیا ہوا پرندہ لے کرواپس آیا لیکن وہ نوجوان زندہ پرندہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے واپس آیا ، پیر صاحب نے پوچھا کہ دوسروں کی طرح تم نے اسے کیوں ذبح نہ کیا ؟ اس نے عرض کی: حضور ! مجھے کوئی ایسی جگہ نہیں ملی جہاں کوئی دیکھتا نہ ہو کیونکہ میں جہاں بھی گیا تو پایا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے دیکھ رہا ہے ۔ اس لئے مجبوراً واپس لے آیا۔یہ سن کر تمام پیر بھائیوں کی آنکھوں پر پڑا ہوا حجاب دور ہو گیا اور انہوں نے نہ صرف پیر صاحب سے معافی مانگی بلکہ عرض کی: واقعی یہ نوجوان اس بات کا حقدار ہے کہ اس کی عزت کی جائی۔
(احیاء علوم الدین، کتاب المراقبۃ والمحاسبۃ، باب المرابطۃ الثانیۃ، ج۵، ص ۱۲۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہماری نگاہ ظاہری صلاحیت وشخصیت کو دیکھتی ہے مگر مرشِد کامل اپنی نگاہِ ولایت سے کھرے کھوٹے کی پہچان کرکے بہتر ہی کو سامنے لاتے ہیں اور سامنے آنے والا نگاہِ مرشِد کی بَرَکت سے ایسا باکمال ہوجاتا ہے کہ لوگ اس کے ذریعے ہونے والے کام دیکھ کر شَشْدَر رہ جاتے ہیں مگر کامیاب وہی رہتے ہیں جو اس حقیقت کو ہر دم پیش نظر رکھتے ہیں