Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
52 - 55
تولنے کی کوشش کی۔ چنانچہ، 
ملفوظات اعلیٰ حضرت (مکمل چار حصے) صَفْحَہ 298 پر ہے:حضرت سیدنا گیسو دراز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ ایک بار سر راہ بیٹھے تھے(کہ) حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کی سواری نکلی۔ اِنہوں نے اٹھ کر زانوئے مبارک پر بوسہ دیا ۔حضرت خواجہ نے فرمایا: سَیِّد فرو ترک! (یعنی) سید اور نیچے بوسہ دو۔ اِنہوں نے پائے مبارک پر بوسہ لیا۔ فرمایا: سَیِّد فرو ترک! اِنہوں نے گھوڑے کے سُم پر بوسہ دیا ۔ ایک گیسو کہ رِکاب مبارک میں اُلجھ گیا تھا وہیں اُلجھا رہا اور رِکاب سے سُم تک بڑھ گیا۔ حضرت نے فرمایا: سَیِّد فرو ترک!اِنہوں نے ہٹ کر زمین پربوسہ دیا۔ گیسو رِکاب مبارک سے جدا کر کے حضرت تشریف لے گئے ۔ 
لوگوں کو تعجب ہوا کہ ایسے جلیل سید (اور)اتنے بڑے عالم نے زانو پر بوسہ دیا اور حضرت راضی نہ ہوئے اور نیچے بوسہ دینے کو حکم فرمایا،اِنہوں نے پائے مبارک کو بوسہ دیا اور نیچے کو حکم فرمایا ، گھوڑے کے سم پر بوسہ دیا اور نیچے کو حکم فرمایا یہاں تک کہ زمین پر بوسہ دیا۔ یہ اعتراض حضرت سید گیسو دراز نے سنا(تو) فرمایا: لوگ نہیں جانتے کہ میرے شیخ نے ان چار بوسوں میں کیا عطا فرما دیا؟جب میں نے زانوئے مبارک پر بوسہ دیا،عالَمِ ناسُوْت