غور طلب بات ہے کہ اس فہرست میں کس قدر غور و خوض کے بعد اَہم ترین اور بظاہر باصلاحیت شخصیتوں کو چنا گیا ہوگا۔ مگر نگاہِ مرشِد کے اَسرار کوسمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ۔اس لیے مولانا زین الدین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالمَتِیننے اسی فہرست کو مختصر کرکے دوبارہ آپ کی بارگاہ میں پیش کر دیا، مگر اب بھی اس فہرست میں حضرت گیسو دراز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کا نام نہ تھا۔
تو شَیخ الاسلام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فرمایا کہ سَیِّد محمد حضرت خواجہ گیسُو دراز کا نام تم نے نہیں لکھا۔حالانکہ وہی تو اس بارِگراں کو اٹھا نے کی اَہلیت رکھتے ہیں .یہ سن کر سب تھرتھر کانپنے لگے ۔اب جب حضرت خواجہ گیسو دراز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کا نام بھی فہرست میں لکھ کر حاضر ہوئے تو حضرت شَیخ الاسلام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فوراً اس نام پر حکْم صادِر فرمادیا۔اس وقت حضرت گیسو دراز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کی عمر 36 سال سے کچھ زیادہ نہ تھی۔
(آدابِ مرشِد کامل، ص ۵۶)
مرشد کی اطاعت کا صدقہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا گیسو دراز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کو یہ مرتبہ ایسے ہی نہ ملا بلکہ یاد رکھیے کہ انہوں نے کبھی اپنے مرشد کے فرمان سے روگردانی نہ کی اور نہ کبھی اپنے مرشد کے فرمان کو عقل کے ترازو میں