Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
50 - 55
مرشد کی نظر
۱۵ رمضان المبارَک ۷۸۷ھ بمطابق10 ستمبر 1357 ء کو حضرت شَیخ الاسلام خواجہ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی پر اچانک بیماری کا غلبہ ہوا تو لوگوں نے عرض کی: مشائخ اپنے وصال کے وقت کسی ایک کو ممتاز قرار دے کر اپنا جانشین مقرر فرماتے ہیں، آپ بھی اپنا کوئی جانشین مقرر فرما دیجئے۔حضرت شَیخ الاسلام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے فرمایا: اچھا مستحق لوگوں کے نام لکھ کر لاؤ۔ مولانا زین الدین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالمَتِین کو یہ اَہَم ذمہ داری سونپی گئی جو یقیناً ایک اہم شخصیت ہوں گے۔ چنانچہ انہوں نے دیگر عمر رسیدہ و پختہ کار مریدوں کے باہمی مشورہ سے ایک فہرست تیار کرکے پیش کی مگر اس میں آپ کے مرید خاص حضرت گیسو دراز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کا نام شامل نہ کیا شاید اس لیے کہ وہ ابھی ان کی نسبت کم عمر تھے۔چونکہ حضرت شَیخ الاسلام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نگاہِ باطن سے وہ کچھ ملاحظہ فرمارہے تھے جن سے یہ لوگ بے خبر تھے۔ لہٰذا آپ نے فہرست دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ تم کن لوگوں کے نام لکھ لائے ہو؟ ان سب سے کہہ دو خلافت کا بار سنبھالنا ہر شخص کا کام نہیں۔ اپنے اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کریں۔