عظام کی نگاہِ ولایت کے سامنے مرید کا ظاہر بھی ہوتا ہے اور باطن بھی۔ پیر اپنے مرید کو اس کے ظاہر یا باطن کی بنا پر فیض سے نوازتے ہیں۔ لہٰذا اگر پیر کسی مرید کو نوازیں تو اس سے حسد کرنے کے بجائے اس کی محبت کو سینے میں بساتے ہوئے اپنی کوتاہی پر نظر کرنا چاہئے۔ جیسا کہ حضرت سیدنا امام عبد الوہاب شعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی (متوفی ۹۷۳ھ) ارشاد فرماتے ہیں کہمرید پر لازم ہے کہ جب اس کا مرشِد اس کے پیر بھائیوں میں سے کسی ایک کو اس سے آگے بڑھادے(یا کوئی منصب عطا کرے) تو وہ اپنے مرشِد کے اَدَب کی وجہ سے اپنے اس پیر بھائی کی خدمت(اور اطاعت) کرے اور حَسَد ہر گز نہ کرے۔ ورنہ اس کے جمے ہوئے پاؤں پھسل جائیں گے او راسے بڑا نقصان پیش آئے گا۔لیکن اگر کوئی مرید اپنے پیربھائیوں سے آگے بڑھنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے مرشِد کی خوب اطاعت کرے اور اپنے آپ کو ایسی صفات سے آراستہ کرلے جن کے ذریعہ وہ آگے بڑھ جانے کا مستحق ہوجائے اور اس وقت مرشِد بھی اسے اسی پیر بھائی کی طرح دوسرے پیر بھائیوں سے آگے بڑھادے گاکیونکہ مرشِد تو مریدوں کا حاکم اور ان کے درمیان عدل کرنے والا ہوتا ہے اور بہت کم ہے کہ کوئی مرید اس مَرَض سے بچ جائے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنی پناہ میں رکھے ۔ (الانوار القدسیہ، الجزء الثانی، ص ۲۹)