اجازت کے معاملے میں بڑے محتاط تھے۔ مگر جب اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کو مرید ہوتے ہی جملہ سلاسل کی اجازت ملی تو خانقاہ کے ایک حاضر باش سے نہ رہا گیا۔ عرْض کی: حضور! آپ کے خاندان میں تو خلافت بڑی ریاضت اور مجاہدے کے بعد دی جاتی ہے۔ ان کو آپ نے فوراً خلافت عطا فرمادی۔ حضرت شاہ آلِ رسول قُدِّسَ سِرُّہُ نے اس شخص سے ارشاد فرمایا: لوگ گندے دل اور نفس لے کر آتے ہیں، ان کی صفائی پر خاصا وقت لگتا ہے مگر یہ پاکیزگی نفس کے ساتھ آئے تھے۔ صرف نسبت کی ضَرورت تھی ۔وہ ہم نے عطا کردی۔ پھر حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا، مجھے مدت سے ایک فکر پریشان کئے ہوئے تھی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ وہ آج دور ہوگئی۔ قِیامت میں جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ پوچھے گا کہ آلِ رسول ہمارے لئے کیا لایا ہے؟ تو میں اپنے مرید اَحمد رضا خان کو پیش کردوں گا۔ پھر آپ قُدِّسَ سِرُّہُ نے اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کو وہ تمام اعمال واشغال عطا فرمادئيے۔ جو خانوادہ بَرَکاتیہ میں سینہ در سینہ چلے آرہے ہیں۔ (انوارِ رضا، ص ۳۷۸ )
پیر کے منظورِ نظر سے محبت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ! اولیائے کرام و مشائخ