عرض: اگر کسی مرید کی اپنے شیخ سے زیادہ رسائی ہو اس پر اس کے پیر بھائی رنج رکھیں تو کیسا ہے ؟
ارشاد : یہ حسد ہے جو لے جاتا ہے جہنم میں ۔ ربُّ العزت تبارک وتعالیٰ نے حضرت آدم عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ رُتبہ دیا کہ تمام ملائکہ سے سجدہ کرایا ، شیطان نے حسد کیا وہ جہنم میں گیا ۔دنیا میں اگر کسی کو اپنے سے زیادہ دیکھےتو شکر بجالائے کہ مجھے اتنا مبتلا نہ کیا اور دین میں دیکھے تو اُس کی دست بوسی کر ے، اُسے مانے۔ کسی پر حسد کرنا ربُّ العزت پر اعتراض ہے کہ اسے کیوں زیادہ دیا اور مجھے کیوں کم رکھا۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص ۲۸۶)
پیر باطن دیکھتا ہے ظاہر نہیں
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن اکیس سال کی عمر میں جب اپنے والدِ ماجد کے ساتھ خاتم الاکابر حضرت سید شاہ آلِ رسول مارہری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلسلہ عالیہ قادِریَّہ میں ان سے بَیْعَت کی۔ ان کے مرشِد کامل نے (اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت کو مرید بنانے کے ساتھ )تمام سلسلوں کی اجازت و خلافت اور سندِحدیث بھی عطا فرمائی۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت ، باب بیعت وخلافت ، ج ۱ ،ص ۳۹) حالانکہ حضرت شاہ آلِ رسول قُدِّسَ سِرُّہُ خلافت و