ناکام مرید
حضرت سیدنا امام عبد الوہاب شعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی (متوفی ۹۷۳ھ) ارشاد فرماتے ہیں کہ مرید پر لازم ہے کہ وہ اپنے مرشِد کو کبھی کیوں نہ کہے کیونکہ تمام مشائخ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس مرید نے اپنے مرشِد کو کیوں کہا وہ طریقت میں کامیاب نہ ہوگا۔ (الانوار القدسیہ، ص۲۶)
پیر بھائیوں سے حسد
پیارے اسلامی بھائیو! اگر آپ نے فوراً ان وسوسوں کو خود سے دور نہ کیا کہ میرے پیر نے فلاں کو نوازا اور مجھے نہیں تو یاد رکھیے کہیں یہ وسوسے حسد کی شکل نہ اختیار کر لیں،کیونکہ اگر یہ حسد کی صورت اختیار کر گئے تو بربادی ہی بربادی ہے۔چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے کہ’’حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔‘‘
(ابن ماجہ،کتاب الزھد، باب الحسد، الحدیث: ۴۲۱۰، ج ۴، ص ۴۷۲)
حسد کی نحوست
اس ضمن میں دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 561صفحات پر مشتمل کتاب ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت صفحہ286سے ایک عرض وارشاد پیش خدمت ہے: