رب الانام کے لیےہونی چاہئے۔ جیسا کہ حضرت سیدنا امام عبد الوہاب شعرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی (متوفی ۹۷۳ھ) ارشاد فرماتے ہیں کہمرشِد جس شخص کو اپنا دشمن جانیں مرید بھی اس سے دشمنی کرے اور مرشِد جس سے دوستی رکھے، مرید بھی اس سے دوستی رکھے ۔ (الانوار القدسیہ، الجزء الثانی، ص۳۹)
مزید فرماتے ہیں کہ مشائخِ کبار کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مرشِد کی مَحبّت کی شرائط میں سے ایک (اہم شرط) یہ ہے کہ مرید اپنے مرشِد کی گفتگو کے عِلاوہ دیگر تمام لوگوں کی گفتگو سننے سے اپنے کان بند کرلے۔(یعنی مرشِد کے خلاف ذہن خراب کرنے والے کی گفتگو سُننا تو دُور کی بات نفرت کے باعث اس کے سائے سے بھی بھاگے ) پس مرید کسی بھی مَلامَت کرنے والے کی مَلامَت کو نہ سنےیہاں تک کہ اگر تمام شہر والے لوگ کسی ایک صاف میدان میں جمع ہوکر اسے اپنے مرشِد سے نفرت دلائیں (اور ہٹانا چاہیں) تو وہ لوگ اس بات پر (یعنی مرید کو مرشِد سے دور کرنے پر) قدرت نہ پاسکیں۔
پیپر پن کی مثال
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس با ت کو یوں سمجھیے کہ پیپر پن صرف نرم جگہ پیوست ہوتی ہے، سخت جگہ میں اسے جتنا دبائیں وہ اندر جانے کے بجائے خود ہی ٹوٹ جائے گی ۔ہم بھی اپنے اندر طریقت کی دیوار کو