Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
43 - 55
پیر پر اعتراض کا ساتواں سبب
مرید کی پیر سے محبت بے غرض ہو تو مرید فیض پاتا ہے ورنہ محروم رہتا ہےاور غرض پوری نہ ہونے پر بدگمانی کا شکار ہو کر پیر پر اعتراض کرنے لگتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا عبد العزیز بن مسعود دباغ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ  فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص ولایت وغیرہ کےحصول کے لیے شیخ سے محبت کرے یا شیخ کے علم، مہربانی یا کسی اور خوبی کی وجہ سے اس سے محبت کرے تو اسے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ بلکہ مرید کو چاہئے کہ بغیر کسی غرض اور لالچ کے شیخ سے محبت رکھے جیسے عام طور پر بچے ایک دوسرے سے بغیر کسی غرض اور لالچ کے محض پسندیدگی کے جذبات کی بدولت محبت رکھتے ہیں۔ پھر مرید کے اپنے پیر سے بے غرض محبت کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اَغراض و مَقاصد سے متعلق محبت مرید کو شیطانی وسوسوں کا شکار کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں بعض اوقات محبت ختم ہو جاتی ہے۔ (الابریز ، الجزء الثانی، ص ۷۵)
پیر پر اعتراض کا آٹھواں سبب
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بعض اوقات غیر کی صحبت بھی پیر پر اعتراض کا سبب بن جاتی ہے، لہٰذا یاد رکھیے کہ مرید کی صحبت کا معیار الْحُبُّ فِى اللہِ وَالْبُغْضُ فِى اللہ ہونا چاہئے۔ یعنی محبت و نفرت صرف رضائے