فرمایا :ٹھہرو۔ ایک حجرہ میں خانقاہ شریف کے ٹھہرایا ،خادم کو حکم دیا انہیں مچھلی کھانے کو دی جائے اور پانی کا ایک قطرہ نہ دیا جائے اور بعد کھانا کھانے کے فوراً حجرہ باہر سے بند کردیا جائے۔خادم نے مچھلی دی جب وہ کھا چکے فوراً زنجیر بند کردی۔ اب یہ اندر سے چِلاتے ہیں کہ مجھے پانی دیا جائے مگر کون سنتا ہے ۔ صبح کو حضور نماز کے واسطے تشریف لائے خادم نے حجرہ کھولا کھلتے ہی پانی پر جا گر ے اور جس قدر پیاگیا خوب پیا ۔نماز کے بعد حضرت نے فرمایا خیریت ہے؟ عرض کیا: حضور!رات تو خادموں نے مار ہی ڈالا تھا کہ مجھے ایسی گرمی میں اوّل تو مچھلی کھانے کو دی ،دوسرے ایک قطرہ پانی کا نہ دیا اور پیاسا ہی حجرہ میں بند کردیا۔ فرمایا :پھر رات کیسی گزری؟ عرض کیا :جب تک جاگتا رہا پانی کا خیال، جب سویا سوائے پانی کے اور کچھ نہ دیکھا۔فرمایا: طلبِ صادق اس کا نام ہے، کبھی ایسی طلب بھی کی تھی جس کی شکایت کرتے ہو؟ وہ مجاہدات کیے ہوئے،قلبِ صاف تھا۔ نفس کا جو دھوکا تھا فوراً کھل گیا اور مقصود حاصل ہوگیا۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص ۴۷۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا ہماری طلب صادق نہیں ورنہ پیر کے فیضان کا دریا تو جاری ہے، ہم ہی اس دریا میں اتر کر اس سے سیراب نہیں ہوتے بلکہ چاہتے ہیں کہ کنارے پر بیٹھے بیٹھے پانی مل جائے۔