Brailvi Books

پیر پر اعتراض منع ہے
41 - 55
پیر تو دیتا ہے ہم نہیں لیتے
معلوم ہوا کہ پیر کے فیض میں کمی نہیں بلکہ اس کا فیض تو بہتے دریا کی طرح راستے میں آنے والی ہر قسم کی زمین کو سیراب کرنے والا ہے۔ مگر یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم پیر کے فیضان کو اپنے دل کی کھیتی میں محبت و خلوص سے داخل ہی نہیں ہونے دیتے۔ جیسا کہ تفسیر روح البیان میں ہے کہ مرشِد کے دل میں اپنے مرید کی کامیابی کی خواہش جوش پر ہوتی ہے لیکن پھر بھی مرید کے محروم رہ جانے کا سبب یہ ہے کہ وہ مخلص نہیں ہوتا اور اکتسابِ فیض کرنا ہی نہیں چاہتا۔ (تفسیر روح البیان ، سورۃ المنافقون، آیت  ۶، ج۹ ، ص ۵۳۶)کیونکہ پیر مرید کو سنوارنے والا ہوتا ہے جب تک مرید کو تمام آلائشوں سے صاف نہ کرے اور طریقت کی راہ طے کرنے کے لیے اسے پاک نہ کرے سمجھ لے کہ وہ بیچارہ گمراہی میں رہے گا۔ (ہشت بہشت، ص۲۴۱) 
پیاس کی شدت
قطب الواصلین حضرت سیدنا شاہ آلِ محمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  آپ مارہرہ شریف میں تشریف فرما ہیں۔ ایک صاحب سب سجادوں میں گھومے ہوئے مجاہدے ریاضتیں کیے ہوئے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے یہی شکایت کی کہ اتنے برسوں سے طلب میں پھرتا ہوں مقصود حاصل نہیں ہوتا۔