کچھ مدت تک کوئی اثر یا کیفیت نہ ظاہر ہو تو اس سے تنگ دل اور پیر سے بدظن نہ ہو اور اس کو اپنی خامی یاکوتاہی سمجھے اور یوں سمجھے کہ بڑا اثر یہی ہے کہ مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام لینے کی توفیق ہو رہی ہے ہر مرید میں پیدائشی طور پر الگ الگ صلاحیت ہوا کرتی ہے ایک ہی وظیفہ اور ایک ہی ذکر سے کسی میں کوئی اثر پیدا ہوتا ہے اور کسی میں کوئی دوسری کیفیت پیدا ہوتی ہے کسی میں جلد اثر ظاہر ہوتا ہے کسی میں بہت دیر کے بعد اثرات ظاہر ہوتے ہیں جس میں جیسی اور جتنی صلاحیت ہوتی ہے اسی لحاظ سے وظیفوں اور ذکر کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں یہ ضروری نہیں کہ ہرمرید کا حال یکساں ہی ہو بہر حال اگر وظیفہ و ذکر سے کچھ کیفیات پیدا ہوں تو خدا کا شکر ادا کرے اور اگر کچھ اثرات نہ ہوں یا کم ہوں یا اثرات ہوکر کم ہو جائیں یا بالکل اثرات و کیفیات زائل ہو جائیں تو ہرگز ہرگز پیر سے بد اعتقاد ہو کر ذکر اور وظیفہ کو نہ چھوڑے بلکہ برابر پڑھتا رہے اور پیر کا ادب و احترام بدستور رکھے اور ذرا بھی تنگ دل نہ ہو اور یہ سوچ سوچ کر صبر کرے اور اپنے دل کو تسلی دیتا رہے کہ
اس کے الطاف تو ہیں عام، شہیدی سب پر
تجھ سے کیا ضد تھی اگر تو کسی قابل ہوتا
(جنتی زیور، ص ۴۶۳)